نئی دہلی:17/مارچ(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)حالیہ الیکشن میں بالخصوص یوپی میں بہتر کامیابی کے بعد سے فسطائی جماعتوں کے حواس باختہ ہو چکے ہیں۔ ایسا لگتا ہے وہ خوشی میں اپنا شعور تک کھو چکے ہیں؛ جبکہ یہ کامیابی کوئی تعجب خیر نہیں ہے۔ جیتنے کے نشے میں آکر مسلمانوں کو گاؤں چھوڑنے کی دھمکی دینے والے ملک کے خیر خواہ کیسے ہو سکتے ہیں؟!، ان باتوں کا اظہار آل انڈیا امامس کونسل کے قومی جنرل سکریٹری مفتی حنیف احرار قاسمی نے کیا۔مفتی احرار نے کہا کہ: ”جو لوگ مسلمانوں کو گاؤں چھوڑنے کی بات کہ رہے ہیں وہ اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں کہ انھوں نے ملک کو کیا دیا ہے۔ ان کے حصے میں نفرت، بے ضمیری اور ملک فروشی کے علاوہ اور کیاہے؟۔ ایسے لوگ آج مسلمانوں کو گاؤں چھوڑنے کی بات کہ رہے ہیں، صحیح کہا ہے کسی نے: ”بے شرمی کا مذہب نہیں ہوتا“۔قومی جنرل سکریٹری نے کہا کہ: ”ہندستان ایک عظیم جگر رکھنے والا ملک ہے، یہ بہت سخت جان ثابت ہوا ہے، اس نے ایسے بہت سے حالات دیکھے ہیں جب حقیقی باشندگان کو ملک سے بھگانے یا انھیں غلام بنانے کی کوشش کی گئی ہے“۔آل انڈیا امامس کونسل کے قومی جنرل سکریٹری مفتی احرارؔ نے ملک کے انتظامیہ اور عدلیہ سے مطالبہ کرتے ہوے کہا کہ:”ایسے عناصر جو ملک میں دشمنی کی آگ جلانے، قومی منافرت پھیلانے اور فسادات کے شعلے بھڑکانے کا کام کرتے ہیں ان کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے اور مجرمین کو فوری سزا دی جائے۔ کسی بھی علاقے، صوبے یا مرکز پر حکومت کا مطلب ”ملک کو دستور کے مطابق چلانے کی ذمہ داری ہے، من مانی کرنے کی آزادی نہیں“۔کونسل کے قومی ترجمان و جنرل سکریٹری نے کہا کہ: ”آل انڈیا امامس کونسل ایسے پوسٹر بازی، زبان درازی اور بیان بازی کی پر زور مذمت کرتی ہے اور تمام باشندگانِ ملک بالخصوص یوپی کے دانشوران، سیاسی لیڈران، قومی رہبران اور ملکی مفکران سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اس موقع پر سامنے آکر قومی کی صحیح رہنمائی کریں اور سیاسی بے ضابطگی کو ختم کرنے اور ملک کو اصول و آئین کے مطابق چلانے کے لیے مؤثر مداخلت کریں“۔